ابنا: یہ کانفرنس دسمبر میں ھیلسینکی میں منعقد ہونا تھی اس عالمی کانفرنس کا التوا نہایت قابل توجہ نکتہ ہے کیونکہ اس کانفرنس کے التوا یا موخر ہونے کا سب سے زیادہ فائدہ غاصب صہیونی ریاست کو پہنچے گا۔اسرائیل مشرق وسطی کا واحد ملک ہے جسکے پاس ایٹمی ہتھیار موجودہیں ۔مشرق وسطی میں ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمہ کا مسئلہ چند سالوں سے زير بحث ہے ۔ اسلامی جمہوریۂ ایران بھی مشرق وسطی میں ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کا قائل ہے اور اسکی تجویز پر ہی 2010 میں اس ایشو کو منظور کیا گيا تھا ۔ ایران نے منگل کو برسلز میں منعقدہ ایک اجلاس میں یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ وہ فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی میں منعقدہ اجلاس میں بھرپور شرکت کرے گا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1994 سے لیکر 2010 تک اپنی ہر سال کی قرارداد میں اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ این پی ٹی معاہدے پر دستخط کرے اور آئی اے ای اے کے قواعد و ضوابط پر عمل کرے ۔ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے نے 1987 سے لیکر 1991 تک مسلسل پانچ سال اور اسکے بعد 2009 میں بھی اسرائیل سے اسی طرح کا مطالبہ کیا ہے۔آئي اے ای اے نے 1981 میں بھی اسرائیل سے کہا تھا کہ وہ اپنی ایٹمی تنصیبات کے دروازے آئی اے ای اے کے معائنے کے لئے کھول دے لیکن غاصب اسرائیل نے اس عالمی ادارے کے فیصلے کو ذرا برابر اہمیت نہیں دی امریکہ کی خفیہ دستاویزات اور اسٹرٹیجک ماہرین کے اندازے کے مطابق غاصب صہیونی ریاست کے پاس اس وقت تین سو کے قریب ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں ۔ ترکی کے ایک تحقیقاتی ادارے نے چند دن پہلے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کے ایٹمی پلانٹ ڈیمونا میں ہر ہفتہ تقریبا" ڈیڑھ کلوگرام یورینیم تیار ہو رہی ہے جس کی سالانہ پیداوار چار سے بارہ ایٹم بم بنانے کےلئے کافی ہے۔آئي اے ای اے میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے ویانا میں ایک کانفرنس میں کہا ہے کہ بڑی طاقتوں کی دوہری پالیسیوں کی وجہ سے ایٹمی مسائل سے متعلق عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہورہی ہے ۔عالمی اداروں من جملہ آئی اے ای اے کی کمزوری کے سبب مشرق وسطی کو اسرائيل کے ایٹمی ہتھیاروں سے خطرات لاحق ہیں یہی وجہ ہے کہ عراق کے وزير اعظم نوری مالکی نے آئي اے ای اے کے سربراہ سے ملاقات میں مشرق وسطی کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے پر تاکید کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110